سپریم کورٹ چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیٹی بنائے،سراج الحق

133

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے ریمارکس کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی عدالت عظمی کے صرف ایک جسٹس کے ریمارکس نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ عوام کے دل کی آواز ہے کہ نیب قومی دولت لوٹنے والے مگر مچھوں کا سہولت کار ہے ۔ کرپٹ حکمرانوں کی موجودگی میں احتساب کا موثر نظام خواب و خیال کی باتیں ہیں۔سپریم کورٹ چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے اپنی نگرانی میں جوڈیشل کمیٹی بنائے ۔وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا مقرر کردہ چیئرمین نیب حکمرانوں کی کرپشن کو تحفظ تو دے سکتا ہے ان کا احتساب نہیں کرسکتا۔چور چور کا احتساب کرتا ہے نہ اسے چوری سے روک سکتا ہے ۔سپریم کورٹ قوم پر احسان کرے اور فوری طور پر چیئرمین نیب سمیت اعلیٰ عہدیداروں کے تقرر کیلئے جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے جس میں چاروں صوبائی ہائیکورٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی شامل کیا جائے ۔  سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بھی پابند کرے کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات یقینی بناتے ہوئے ان پر عمل درآمد کی موثر حکمت عملی وضع کرے۔حکمرانوں کا قبلہ درست نہ ہوا تو انتخابات قبل از وقت بھی ہوسکتے ہیں۔جماعت اسلامی 2018کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور عوامی تائید سے ایک بڑی قوت بن کر ابھرے گی۔عوام اپنا انتخابی رویہ بدلیں اور ملک کو کنگال کرنے والے ڈاکوئوں کو سر پر بٹھانے کی روش چھوڑ کر دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والے جماعت اسلامی پنجاب کی شوریٰ کے اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس سے  امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب بلال قدرت بٹ بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جب تک بدیانت ٹولہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہے ملک میں احتساب ،انتخاب اورانصاف کے ادارے پنپ سکتے ہیں نہ اپنا کردار موثر انداز میں نبھانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں،حکمران چاہتے ہیں کہ احتساب کے اداروں میں ایسے لوگ بیٹھے ہوں جو نہ صرف ان کی کرپشن اور لوٹ مار کو تحفظ دیں بلکہ انہیں لوٹ کھسوٹ کے نت نئے طریقوں اور حربوں سے بھی ا گاہ کریں ۔

انہوں نے کہاکہ نیب اگر کسی ایک بڑے مجرم کو احتساب کے کٹہرے میں لے آتا اور اس سے لوٹی گئی قومی دولت نکلوانے میں کامیاب ہوجاتا تو آج قوم اس کی پشت پر کھڑی ہوتی اور قوم کے نزدیک اصل ہیرو نیب کا چیئرمین ہوتا مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے جسے چوری روکنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے وہ چوروں کا سرپرست بن جاتاہے اور حرام کی کمائی کے کئی طریقے ایجاد کرلیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو قومی خزانے سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور اس خزانے کو لوٹنے والوں سے حصہ بٹورتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس کیس حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جسے نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں،پوری قوم کی نظریں اس کیس پر لگی ہیں اور بجا طور پر یہ مقدمہ قومی تاریخ کا آئندہ کا رخ متعین کرے گا۔قوم نے سپریم کورٹ سے جو امیدیں لگا رکھی ہیں ہمیں یقین ہے کہ قوم کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوںنے کہا کہ اب ضروری ہوگیا ہے کہ الیکشن کمیشن بھی اپنا قبلہ درست کرلے اور اپنی طے کردہ اصلاحات کے نفاذ اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے کسی کمزور ی کا اظہار نہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر ہونے والے انتخابات کو قوم تسلیم نہیں کرے گی۔

شورٰی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہا کہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب کے 150قومی اسمبلی کے حلقوں میں سے اکثر پر ہم نے اپنے امیدواروں کے نام فائنل کرلئے ہیں۔2018کے انتخابات میں جماعت اسلامی پنجاب میں ایک بڑی قوت بن کر ابھرے گی ،انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کرپٹ ٹولے سے نجات دلانے کیلئے جماعت اسلامی کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھتے ہیں ،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 2017میں پنجاب بھر میں بھرپور عوامی رابطہ مہم کے ذریعہ عوام کوکرپشن کے خلاف ایک سیسہ پلائی دیوار بنایاجائے گا تاکہ ملک پر مسلط استحصالی نظام سے عوام کی جان چھوٹ سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ