پیپلزپارٹی باہر نکلے گی تو حکومت مخالف تحریک شروع ہوجائےگی،خورشیدشاہ

151

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہیں، نواز شریف حکومت نے ہمیشہ میثاق جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

پارلیمنٹ ہاوس میں اپنے چیمبر میں میڈیا سے گفتگوکے دوران انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوری سے ہی جلسے شروع کر رہی ہے، ہم چار سال میں ہونے والی تباہی کو عوام کے سامنے لائیں گے، جب ہم باہر نکلیں گے تو تحریک شروع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے اتحاد میں آئے تو خوش آمدید کہیں گے،ایشوز پر سب اکٹھے چلتے ہیں تو اچھی بات ہے، ورنہ عمران اپنی چھتری لے کر گھومیں، اعتراض نہیں، ہم ساری جماعتوں کو لے کر اپنی چھتری میں گھومیں گے۔

خورشید شاہ نے کہا میں وزیراعظم نوازشریف سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے خلاف کوئی کرپشن کا کیس ہے تو میڈیا پر لائیں اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار بھی دھمکیاں نہ دیں بلکہ میرے خلاف سپریم کورٹ میں کیس داخل کریں اور میرا احتساب کریں، اور اگر انہوں نے دھمکیاں دینا بند نہ کیں تو پھر میں انہیں سپریم کورٹ میں لے کرجاوں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی چلانے کیلئے بلاول بھٹو کے پاس سوفیصد اختیارات ہیں، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی وہی ہوں گے۔  کیوں کہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔ خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ ملکی حالات میں سیاسی لیڈرشپ کا پارلیمنٹ میں آنا اہم ہے، بلاول کی عمر کا مسئلہ تھا، زرداری صاحب پر 2سال کی آئینی پابندی تھی،لیکن اب دونوں رہنما آئینی پابندیوں سے مبرا ہیں ملکی حالات میں سیاسی قیادت کا پارلیمنٹ آنا بہت اہم ہے، ہماری قیادت کے پارلیمنٹ میں آنے سے انتخابی مہم پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ہرسیاستدان پارلیمنٹ میں وزیراعظم بننے کے لیے آتا ہے کیوں کہ پارٹی منشور پر تب ہی عمل ہو سکتا ہے جب آپ اقتدار حاصل کریں ،خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ غلط فہمی بھی دور کرلی جائے کہ آصف زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے سے بلاول کے اختیارات ختم ہوجائیں گے، بلاول بھٹو کے پاس سوفیصد اختیارات ہیں، اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب شریک چئیرمین سے پوچھا گیا کہ ایاز سومرو اور عذرا فضل سے استعفی کب دلوائیں تو انہوں نے کہا کہ چئیرمین بلاول بھٹو اجلاس میں خود فیصلہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نئے ثبوت لائے ہیں تو نواز شریف قطری شہزادے کا خط لائے ہیں اب عدالت عظمی کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک میں کرپشن ختم ہونی چاہئے یا نہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ پانامہ پر وہ فیصلہ کرے گی جو ملکی مفاد میں ہو گا۔ ۔اپوزیشن لیڈر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جاوید ہاشمی نے پہلے استعفے کی وجوہات ذاتی بتائی تھیں،یہی بات جاوید ہاشمی استعفی دیتے ہوئے کہتے توزیادہ اچھاہوتا اتنے عرصے میں جاوید ہاشمی نے یہ بات نہیں کی اور اب ہن خبرآئی خضر ساڈا بھائی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ