اقتصادی راہداری کے روٹ میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی گئی،ممنون حسین

136

صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ وہ پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی گئی۔ روٹ کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلا نے والے لوگ قوم کی کوئی خدمت نہیں کر رہے بلکہ ان کا یہ طرز عمل وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ بعض لوگ اس راہداری کے روٹ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کررہے ہیں لیکن ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ یہ راہداری پورے پاکستان کی راہداری ہے جس سے پورا ملک یکساں طور پر مستفید ہو گا۔

یہ بات انہوں نے یومِ قائد اعظم  کے حوالے سے گورنر ہاس ، پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں اقبال ظفر جھگڑا، گورنرخیبر پختوانخوا ،وزرا  صاحبان، اراکینِ پارلیمنٹ، کارکنانِ تحریکِ پاکستان کے اہلِ خانہ اور بڑی تعداد میں حاضرین موجود تھے۔صدر مملکت نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے بجٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے اور دہشت گردی کے حوالے سے عالمی ریٹنگ میں پاکستان کی پوزیشن بہت بہتر ہوگئی ہے۔

صدرممنون حسین نے کہا کہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جو قائدین ذاتی اغراض سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف قومی مقاصد کے لیے خود کو وقف کر دیتے ہیں ، ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اورجو اپنی خواہشات کے غلام بن جاتے ہیں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ قائداعظم  کے مزاج کی بنیادی خوبی بھی یہی تھی کہ وہ ذاتی خواہشات کو قومی مقاصدپر کبھی غالب نہیں آنے دیتے تھے۔

صدر مملکت نے کہاکہ سربفلک پہاڑوں اور سنگلاخ سرزمین میں بسنے والے بہاد ر و غیور پشتونوں نے قیام پاکستان کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔ قائداعظم  اس وقت کے صوبہ سرحد اور آج کے خیبر پختونخوا سے خاص محبت رکھتے تھے۔

president-mamnoon-during-qea-birth-anniversary-event-3

صدر مملکت نے کہا کہ اس وقت کے کانگریسی وزیر اعلی کہا کرتے تھے کہ ممکن ہے کہ مسلم لیگ اور کہیں وجود رکھتی ہو لیکن صوبہ سرحد میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے ، لیکن جب عام انتخابات میں مسلم لیگ نے شاندار کامیابی حاصل کی تو قائداعظم  نے غیور پختونوں کو خراج تحسین پیش کر تے ہوئے کہا کہ میرے سپاہیوں نے کانگریس کا جادو توڑ کر رکھ دیا ہے، اب ہمارا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ اسلامیہ کالج پشاور اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبا نے تحریک آزادی میں جس جوش و جذبے سے حصہ لیا اس کے سبب انھوں نے بابائے قوم کے دل میں ایک خاص مقام حاصل کر لیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس ادارے میں بار بار تشریف لائے اور انھوں نے اسلامیہ کالج پشاور کو اپنی جائیداد کا وارث بھی قرار دیا۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ بابائے قوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا حق اس وقت تک ادا نہیں کیا جا سکتا جب تک تحریک پاکستان کے ان تمام کارکنوں کی یاد تازہ نہ کی جائے، ہم اپنے ان بزرگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وطنِ عزیز کی تر قی اور سربلندی کے لیے ان ہی کے جذبے سے کام لیا جائے گا۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے عوام کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ انہی قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی دم توڑ رہی ہے اور نیشنل ایکشن پلان کامیاب ہور ہا ہے۔ اب حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ بے گھر قبائلی جلد سے جلد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور بدامنی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کاروبار اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ اس راہداری کی فعالی کے نتیجے میں وطن عزیز اور خاص طور پر ہمارے یہ علاقے سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور پر مستحکم ہو جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قوم اور خاص طور پر نوجوان شکوک وشبہات کو ایک طرف رکھ کر یکسوہو جائیں تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

انہوں نے نوجوانوں کونصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں اندرونی اور بیرونی سطح پر کیے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر ملک و قوم کی ترقی اور سربلندی کے لیے پوری محنت سے تعلیم کا حصول جاری رکھیں اور قائد اعظم  کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں۔تقریب میں آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں نے قومی ترانہ اور ایف سی کے جوانوں نے علاقائی رقص بھی پیش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ