”میں نہ مانوں“ کی پالیسی پرچلنے والوں کا کوئی علاج نہیں،وزیراعظم

68

وزیراعظم محمدنواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے ملک میں افہام وتفہیم کی سیاست کا آغازکرتے ہوئے دوسری جماعتوںکے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے، ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی جمہوریت ہے، ہم میثاق جمہوریت پر قائم ہیں، ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے اور ”میں نہ مانوں“ کی پالیسی پرچلنے والوں کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں، یہ لاعلاج مسئلہ ہے، پاکستان میں ترقی کیلئے جتنی رقم خرچ ہورہی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

وہ جمعرات کو یہاں آزادکشمیرکونسل کے بجٹ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پرصدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان ،وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر اوردیگربھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو اگرپتہ ہوکہ ان کی حکومت ان کےلئے بھرپورجدوجہدکررہی ہے تو عوام مطمئن ہونگے اور ان کا حکومت پر اعتماد قائم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دل سے عوام کی خدمت کی ہے،آزاد کشمیرکے عوام نے مسلم لیگ(ن) کو مثالی مینڈیٹ دیا ہے، ایسا مینڈیٹ قسمت سے کسی جماعت کو ملتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترے، حکومت کے کام کے عوام کو اچھے ثمرات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قوم کے ہر طبقے کی بلاتفریق خدمت کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب برداشت کا مادہ رکھنا، مثبت تنقید کا سامنا کرنا ہے، ہم نے ملک میںافہام وتفہیم کی سیاست کا آغاز کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر دستخط سے جمہوریت کے نئے دور کا آغاز ہوا تھا، ہم تو چارٹرڈ آف ڈیمو کریسی پر پوری طرح عمل کررہے ہیں لیکن اگرکوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جائے اور میں نہ مانوں کی پالیسی پرعمل پیرا ہو اس کا ہم کیا کرسکتے ہیں، اس کا کوئی علاج ہمارے پاس نہیں ہے ، یہ لاعلاج مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری افہام و تفہیم کی سیاست کی مثال بلوچستان ، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان سمیت ہرجگہ نظرآئے گی، ہم نے دیگر جماعتوںکے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے کیونکہ یہی جمہوریت ہے، ملک اورقومیں اسی طرح چلتے ہیں حتیٰ کہ خاندان بھی اسی طرح چلتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری حکومت ترقی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کررہی ہے،آزاد کشمیرمیں بجلی منصوبے لگانے کے وسیع مواقع ہیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں بجلی کی قلت دور کرنے کےلئے کارخانے لگارہے ہیں،آزاد کشمیرکے افراد بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک مثالی ترقی کا منصوبہ ہے، اس کے تحت کئی منصوبوں پرکام جاری ہے، سی پیک کے بہترین نتائج برآمد ہونگے، سی پیک کے تحت ملک بھرمیں سڑکوں اور موٹرویزکا جال بچھایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جتنی رقم اس وقت مختلف منصوبوں پرملکی ترقی کےلئے خرچ کی جارہی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر بھی سی پیک کے منصوبوں سے مستفید ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ