توانائی کی دنیا میں گیس کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، شاہدخاقان

64

وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ توانائی کی دنیا میں گیس کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، موجودہ صدی تیل کی نہیں بلکہ گیس کی صدی ہے اورپاکستان کا مستقبل بھی گیس سے وابستہ ہے، گیس سے بجلی کی پیداوار ہائیڈل پاور سے بھی سستی پڑ رہی ہے جسکی وجہ سے دنیا بھر میں بجلی گھروں کو گیس پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرﺅف عالم سے ایک خصوصی ملاقات کے دوران کہی ۔انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کاسستا ترین حل گیس کا استعمال بڑھانے میں مضمر ہے۔ ایران یا ترکمانستان سے گیس کی فوری درآمد ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداوار گزشتہ پندرہ سال سے جامد ہے اس لئے ایل این جی درآمد کی جا رہی ہے۔ایل این جی ٹرمینلز اور ری گیسی فیکیشن پلانٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ توانائی کا بحران کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پن بجلی گیس سے تین گنا مہنگی پڑ رہی ہے اور اس میں زیادہ وقت اور سرمایہ لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رون87 معیار کا پٹرول صرف پاکستان اور صومالیہ میں استعمال ہو رہا ہے جس سے جلد جان چھڑا لی جائے گی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دنیا کا آلودہ ترین ڈیزل استعمال کر رہے ہیں جسکی درآمد جنوری سے بند کر دینگے اور یورو ٹو معیار کا ڈیزل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کویت تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے مگر وہاں تیل سے ایک واٹ بجلی بھی نہیں بنائی جاتی بلکہ قطر سے ایل این جی درآمد کر کے بجلی بنائی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں تیل سے آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی بنائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرﺅف عالم نے کہا کہ سی این جی کی قیمت کی ڈی ریگولیشن حکومت کا کارنامہ ہے جس سے یہ صنعت ترقی کرے گی۔ سی این جی کا کاروبار اسی وقت قابل عمل ہو گا جب اسکی قیمت اور پٹرول کی قیمت میں کم از کم بیس فیصد کا فرق ہو۔

انھوں نے کہاکہ سی این جی لیٹر اور کلو میں فروخت ہو رہی ہے جسے ملک بھر میں لیٹر میں فروخت کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کے انرجی مکس میں گیس کا کردار بڑھانے کیلئے حکومت کے مستحسن اقدامات کو سراہا اور کہا کہ تاجر برادری ان کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ