کرپشن سامنے آنے کے بعد حکمرانوں کے پاس حکومت کا اخلاقی جواز نہیں،سراج الحق

102

 امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایجنٹوں کی حکومت ہے ،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی مخبری کرکے انگریز سے جاگیریں لیں اور آزادی کے بعد دولت کی بنیاد پر ملکی اقتدار پر قابض ہوگئے ،انگریز کے غلاموں اور عالمی استعمار کے آلہ کاروں سے آزادی کیلئے قوم کو تحریک پاکستان کی طرز پر ایک بڑی تحریک چلانا ہوگی۔کچھ لوگ کرپشن کی بجائے حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔عوام حکمران خاندان کے ساتھ ساتھ کرپشن میں ملوث کسی لٹیرے کو بھاگنے کا موقع نہیں دیں گے ۔کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی وجہ سے آج کرپشن ہر مجلس کا موضوع بن چکی ہے اور عوام کرپٹ ٹولے کو جلد از جلد جیلوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔کرپشن نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ،دیانتدار اور باکردار قیادت کے بغیر لوٹ کھسوٹ کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی پارلیمانی مشاورتی کونسل کے اجلاس اور مرکزی تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اورسیکرٹری اطلاعات امیر العظیم نے بھی شرکت کی ۔جبکہ تربیت گاہ سے نائب امیر راشد نسیم اور ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بھی خطاب کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد حکمرانوں کے پاس حکومت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ کسی عام شہری کے پاس موٹر سائیکل کے کاغذات نہ ہوں تو پولیس اس سے موٹر سائیکل چھین کر حوالات میں بند کردیتی ہے مگر ملک کے حکمرانوں کے پاس کھربوں روپے کی جائیداد کے کاغذ نہیں اور وہ ڈھٹائی سے اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے نام پر قومی سرمائے سے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں اور روزانہ کروڑوں روپے کے اشتہارات دیئے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کرپشن کا خاتمہ اور چوروں کا احتساب چاہتے ہیں ۔حکمران اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ وہ پانامہ کو گرد و غبار میں اڑا دیں گے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا ،پانامہ لیکس حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے جسے وہ نگل نہیں سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور احتساب کا کوئی نظام نہیں ،اگر سیاسی جماعتیں انتخابی دنگل میں اتارنے سے پہلے اپنے امیدواروں کی چھان پھٹک کرلیں تو ڈاکوﺅں کے گروہ اقتدار کے ایوانوں میں نظر نہ آئیں ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ2018کے انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے موجودہ انتخابی نظام کسی طور بھی آئین کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ موجودہ انتخابی نظام میں عوام رائے دہی میں آزاد نہیں ہیں،الیکشن پیسے کاکھیل بن گیا ہے،جس میں دولت مند اشرافیہ نے دھونس اور دھاندلی کے ذریعے عوام کی رائے کویرغمال بنارکھاہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ چند خاندانوں پر مشتمل اشرافیہ کاطبقہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی طاقت اور دولت کے زور سے پولیس اورانتظامیہ کو خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت مند مافیا نے سیاست میں سرمایہ کاری کرکے، اسے مزید دولت کمانے اور اپنے تحفظ کاذریعہ بنا لیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی مہم میں ہر سیاسی پارٹی اور امیدوار کے انتخابی اخراجات کی حد بندی کی جائے تاکہ الیکشن پیسے کاکھیل نہ رہے اور پاکستان کے ہر شہری کے لیے الیکشن میں حصہ لینا ممکن بنایاجاسکے۔

سینیٹر سراج الحق نے حلب شہر میں ہونے والے قتل عام پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 40لاکھ کی آبادی کے تاریخی شہر کوکھنڈر بنا دیا گیا ہے، معصوم بچوں اور خواتین کو بھی نکلنے کا موقع نہیں دیا گیا، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر عالم اسلام اور اقوام متحدہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے متحد ہونا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ