قبائلی علاقوں کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے،آفتاب شیرپاؤ

58

قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائونے قبائیلی علاقوں کی فوری طور پر خیبر پختونخوا میں انضمام پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ اس معاملے کو مزید طول دینے سے گریز کیا جائے۔انھوں نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے وفاق کا موقف کہ اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جا ئے گاسمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اس حوالے سے پہلے ہی مرکزی حکومت کی فاٹا ریفارمز کمیٹی اور قبائلی عمائدین اپنا فیصلہ دے چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں وطن کور پشاور میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر جنوبی وزیرستان کے سرکردہ سیاسی و سماجی شخصیات حاجی ملک عطاء میر خان،پیر طریقت مولانا عطاء اللہ شاہ،حاجی شاہ حسین محسود،حاجی ملک عطاء اللہ خان،حاجی ملک مطیع اللہ خان،حاجی ملک محمددین،ملک سفار خان،حاجی ملک زومان خان،ملک ستار خان، ملک رحمان گل،ملک طارق خان،ملک رمضان،ملک نیاز علی،ملک عبدالکریم،ملک میر احمد خان،اصغرخان،ملک فرید خان،ملک رجان شاہ اور تاج علی خان نے اپنے ساتھیوں اور خاندنوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ  فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے خیبر پختونخوا ملک کا دوسرا بڑا صوبہ بن جائے گا جبکہ اس سے پختونوں کی قومی یکجہتی پیدا ہوگی اور وسائل میں بھی خاطر خواہ اضافہ گاتاہم وفاقی حکومت سازش کے تحت فاٹا کے انضمام کو طول دے کر پختونوں کو وسائل سے محروم رکھنا چاہتی ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

انھوں نے کہا کہ پختونوں کی تعمیرو ترقی اور قبائلی پختونوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے سیاست سے بالاتر ہوکر فاٹا کوجلد ازجلد خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے۔ وفاقی حکومت صرف پنجاب کا نہ سوچے بلکہ خیبر پختونخوا ،فاٹا اور دیگر صوبے بھی اس ملک کے حصے ہیں لہٰذاتمام صوبوں میں ترقیاتی بجٹ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ چھوٹی قومیتوں اور صوبوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کا ازالہ ہوسکے۔

آفتاب شیرپاؤ نے پاک افغان تعلقات اور رابطوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے پائیدار قیام اور ترقی و خوشحالی کیلئے دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات ناگزیر ہیں اوردونوں ممالک کے مابین باقاعدہ رابطوں کے ذریعے ہی غلط فہمیوں کا خاتمہ اور تعلقات کومزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ