ترکی میں یونیورسٹی کے باہر دھماکہ، 13 فوجی ہلاک، متعدد زخمی

98

ترکی کے صوبےقیصری میں یونیورسٹی کے باہر فوجیوں کی بس کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں تیرہ اہکار ہلاک جب کہ چالیس سے زائد زخمی ہوگئے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کی صبح ارسز یونیورسٹی کے باہرفوجیوں کی بس کو اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا جب بس بارودی مواد سے بھری گاڑی کے پاس سے گزری جس کے نتیجے میں اٹھارہ اہلکار اپنی جانیں گنواء بیٹھے جب کہ چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی  پہلے سے یونیورسٹی کے باہرموجود تھی اور عین اس وقت اس کو دھماکہ سے اڑا دیا گیا جب وہاں سے ایک بس گزر رہی تھی جس میں فوجی اہلکار سوار تھے۔

blast

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر افرا تفری پھیل گئی جب کہ زخمی آہ و بکا کرتے ہوئےمدد کے لئے پکار رہے تھے ۔ پاس موجود لوگوں میں بھی دھماکے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔قریب موجود لوگ حواس بحال ہوتے ہی  زخمی افراد کی طرف بڑھے اور معلوم ہوا کہ حملے کا نشانہ بننے والی بس سادہ لباس میں ملبوس فوجی اہلکاروں کی تھی۔

turkish-force

ترک فوجی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ بس میں سپاہی سوار تھے جو تعطیلات منانے کے لئے آبائی علاقوں میں جا رہےتھے جن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں آٹھارہ جوان ہلاک ہوئے ہیں۔ دھماکے کی اطلاعات ملتے ہی بڑی تعداد میں فورسز کے جوان جائے دھماکہ پرپہنچ گئے جبکہ ریسکیو ٹیموں نے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کردیا ہے۔

ترکی کے  نائب وزیر اعظم واسع کینائیک کا دھماکے کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ دھماکہ فٹبال اسٹیڈیم میں ہونے والے دو دھماکوں سے مماثلت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پراس دھماکے میں بھی وہی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں جو اس سے پہلے بھی ترکی میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتےرہے ہیں۔

turkish-pm

دوسری جانب واقعے کے رد عمل میں ترکی کے وزیر اعظم بنعلی یلدرم نے  اندرون ملک دورے فوری طور پر منسوخ کرتے ہوئے  سیکیورٹی اداروں کا اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔

blast-1

واضح رہے  12 دسمبر 2016 کو ترکی کے شہر استنبول میں  بیسیکٹ فٹبال گراؤنڈ کے باہر جڑواں دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں چالیس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں تھیں جبکہ ترک حکام کی جانب سے ایک سو ساٹھ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ ان جڑواں دھماکوں میں پولیس اور سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
حصہ