یورپی سیٹیلائٹ نیوی گیشن نظام گیلیلیو نے کام شروع کردیا

91

یورپ کے بنائے ہوئے سیٹیلائٹ نیوی گیشن سسٹم گیلیلیو نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق گیلیلیو نیویگیشن سسٹم کے کام کرنے کے ساتھ ہی یورپ سیٹیلائٹس کی اس مارکیٹ میں داخل ہو گیا ہے، جہاں اربوں ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس سسٹم کو نہ صرف سڑکوں کے نقشوں بلکہ کاروں سے لے کر موبائل فونز کی ایپلی کیشنز تک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

دنیا کی تمام بڑی فوجیں بھی اسی نظام کو استعمال کر رہی ہیں اور جاسوسی سے لے کر ڈرون طیاروں کے لیے بھی یہی نظام استعمال ہوتا ہے۔ یورپ کے سیٹیلائٹ نیوی گیش نظام کا آغاز تو سترہ برس پہلے کیا گیا تھا لیکن اس نے کام آج سے کرنا شروع کیا ہے۔ کبھی اس یورپی منصوبے کو سیاسی حملوں کا سامنا رہا، کبھی تکنیکی ناکامیوں کا تو کبھی سرمایے کی کمی کا۔

ابھی تک یورپ اس نظام کے تحت اپنے 18 سیٹیلائٹس خلاء میں بھیج چکا ہے تاہم 2020ء تک یہ 30 سیٹیلائٹ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نظام کے تحت ساڑھے تین فٹ تک کی ایکوریسی حاصل کر لی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس نظام کی پوزیشن کی ایکوریسی سینٹی میٹرز تک معلوم کی جا سکتی اور یہ پلوں کے نیچے اور سرنگوں میں بھی کام کرے گا جبکہ بڑی عمارتوں میں جی پی ایس کے سگنلز بلاک ہو جاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ