حکومت کو پانامہ پیپرز پر دوبارہ بات کرنے پرکوئی اعتراض نہیں،خواجہ سعد رفیق

51

وفاقی ویر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز پر پارلیمنٹ میں دوبارہ بات کرنے پر حکومت کو اعتراض نہیں، تحریک استحقاق پر سپیکر قومی اسمبلی نے آئین کے مطابق رولنگ دی ہے، اب تک حکومت کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوئی ہیں، پی ٹی آئی ایوان میں تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے لینے آتے ہیں۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گز شتہ روز ایوان میں حکومت نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو پانامہ پیپرز پر دوبارہ بات کرنے کی پیشکش کی تھی جبکہ یہ کیسا اصول ہے اپوزیشن کے دوست خود بات کریں لیکن دوسروں کو نہ کرنے دیں، 32 ممبران والی جماعت کہتی ہے کہ ہم 190 ممبران پر مشتمل حکومت کو نہیں بولنے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی ایوان کا حصہ ہے اس سے قبل وہ ایوان میں نہیں آئے تھے لیکن تنخواہیں اور ٹی اے ڈی اے لے رہے تھے۔ حکومت کیخلاف تمام سازشیں ناکام ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018ءکے انتخابات دور نہیں، جس کو اقتدار کی بھوک نے بے حال کیا ہوا ہے ان کی پس پردہ سا زشیں بھی ناکام ہوئی ہیں۔ فیصلہ پا کستان کے ووٹرز نے کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک استحقاق کے متعلق سپیکر نے آئین و قانون کے مطابق رولنگ دی کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمیشہ ہمارا رابطہ رہتا ہے، سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر رابطہ ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ایوان کی کاررائی براہ راست دکھانے کی درخواست تھی جسے براہ راست دکھایا گیا جو کچھ ایوان میں ہوا اسے پورے ملک کی عوام نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2016ءکو الیکشن کا سال قرار دیا اب 2016ءکا اختتام ہو رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ