اقلیتوں کے نام پر منظور ہونے والا بل اسلام دشمنی ہے،اسداللہ بھٹو

55

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی سے اقلیتوں کے نام پر منظور ہونے والا تبدیلی مذہب بل اسلام دشمن عناصر کو خوش کرنے کی کوشش ہے ، بل نہ صرف شریعت بلکہ آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے،حکمران سندھ کے اندر اسلام دشمن اقدامات بند کریں ، پیپلز پارٹی اپنی آٹھ سالہ دورحکومت کی نااہلی چھپانے کے لیے خلاف آئین و خلاف اسلام قانون پاس کر کے اس طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے ، سندھ کے عوام اسلام مخالف بل کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، اگر سندھ حکومت نے یہ بل واپس نہ لیا تو یہ تحریک آگے بڑھے گی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس اور صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پریس کلب پر “تبدیلی مذہب کا اسلام مخالف قانون” کے خلاف جمعیت اتحاد العلماء کراچی کے تحت احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مظاہرے سے امیرجماعت اسلامی کراچی حاظ نعیم الرحمن ، صدر جمعیت اتحاد العلماءمولانا عبد الوحید، صدر ضلع شرقی خالد مسعود ، صدر ضلع وسطی علی زمان کاشمیری مولانا عنایت الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ شرکاءنے اسلام مخالف بل کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے ۔

مظاہرے میں شرکاءنے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے ۔جن میں یہ نعرے درج تھے ۔ اراکین سندھ اسمبلی توبہ کرلیں اسلام مخالف بل واپس لیں ، شرم کروشرم کرو ڈوب مرو ڈوب مرو اسلام مخالف بل واپس لو۔ اس موقع پر سکریٹری اطلاعات ز اہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔

اسد اللہ بھٹو نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد پر قائم ہوا تھا ، اسلام مخاف بل پاس کرنا شہدائے پاکستان کے خون کے ساتھ غداری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 18سال کی عمر میں مذہب تبدیل کرنے کے بعد 21دن تک شلٹر ہاؤس میں رکھنا احمقانہ قانون ہے ۔جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اراکین سندھ اسمبلی ہوش کے ناخن لیں اور اللہ کے قہر سے ڈریں اسلام مخالف بل کے خلاف احتجاج کریں ۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ حکومت اسلام مخالف بل منظور کرنے پر شدید مذمت کرتے ہیں اور ارکان اسمبلی سے گزارش کرتے ہیں کہ اگر واقعی آپ کے اندر اسلام کی محبت موجود ہے تو کالے قانون کے خلاف احتجاج کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں منظور ہونے وا لے آئین جس میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ ملک کے اندر قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں جائے لیکن افسوس ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے اندر اسلا م مخالف قانون سازی کر کے نہ صرف اسلام اور آئین پاکستان سے غداری بلکہ اپنے قائد سے بھی بے وفائی کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل شرا ب خانے کے پرمٹ ایشو کیے گئے اور جب سندھ ہائی کورٹ نے اس پر پابندی لگائی تو صوبائی حکومت شراب کے حق میں دلیلیں دینے لگی ۔یہ سب مغربی آقاؤں کو خوش کرنے اوسیاسی مفادت کے حصول کے لیے جارہا ہے۔ اسلام مخالف بل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام مخالف بل پر دستخط نہ کریں ۔

مولانا عبد الوحید نے کہا کہ سندھ اسمبلی کا آئین و دستور کے خلاف قانون پاس کرنا انتہائی افسوسناک ہے ، یہ بل مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں نو عمر بچوں نے اسلام قبول کیا جس میں حضرت علی حضرت معاذ اور حضرت معوذؓ کا ذکر سر فہرست ہے اور خود محمد نے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن آج ہمارے حکمران یورو اور ڈالر کی دوڑ کے حصول میں اسلام مخالف بل منظور کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے اسلام مخالف بل واپس نہ لیا تو جمعیت اتحاد العلماءکراچی کے تحت تحریک آگے بڑھے گی اور وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ