سپریم کورٹ کے فیصلے تک وزیراعظم اپنے عہدے الگ ہو جائیں،سراج الحق

122

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سر اج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے تک وزیر اعظم اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں۔ عدالت جب تک انہیں پانامہ کیس میں بے گناہ قرار نہیں دیتی ، وہ اپنے عہدے پر براجمان رہنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں ۔ ان کا عہدے پر برقرار رہنا اداروں کو متاثر کر سکتاہے ۔ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی تقریر اور عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بہت فرق ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے عدالت یا پارلیمنٹ میں سے کسی ایک سے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے اور ان کا یہ فعل آئین کی دفعہ 62-63 کے خلاف ہے ۔ عدلت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اسے نااہل قرار دیناچاہیے ۔

انہوں نے یہ بات لوئر دیر میں جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے سابق صوبائی صدر محمد ابرار کی ولیمہ میں مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ ہم نے ملک میں کرپشن کے خلاف جدوجہد شروع کر رکھی ہے اور ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی کرپشن ہے جس کی وجہ سے ملک تباہی کے کنارے پہنچ چکاہے ۔ حکمران بیرون ملک اور اندرون ملک سے قرضوں کے انبار جمع کرتے چلے جارہے ہیں جس کا فائدہ صرف حکمرانوں کو ہی ملتا ہے عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

انہوں نے افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ عوام بھوکے مر رہے ہیں انہیں علاج اور تعلیم کی سہولتیں میسر نہیں جبکہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کیے گئے پیسوں اور بیرونی قرضوں پر حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں ۔ ان کے دل سے عوام کادرد اور اللہ کا خوف اٹھ چکاہے ۔ شہروں میں ڈاکوﺅں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے جبکہ حکمرانوں اور ان کے گھر والوں کے ساتھ بے تحاشا سیکورٹی لگائی ہوئی ہے جس کے اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جاتے ہیں ۔

سراج الحق نے کہاکہ ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے لیکن سبزیاں ، آلو پیاز اور ٹماٹر بھارت سے منگوائے جاتے ہیں ۔ حکومت کی پالیسیوں نے زراعت کے پیشہ کو تباہ کر دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بعد اب سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کی تیاریاں ہورہی ہیں جس سے نہ صرف لوگو ں کے چولہے ٹھنڈے ہوں گے بلکہ صنعت بھی بند ہوگی ۔

سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کے احتساب کے بعد سابقہ حکومت کا بھی آڈٹ ہوناچاہیے اور پانامہ لیکس میں جن کے نام آئے ہیں اور بنکوں سے قرضے معاف کرانے والوں کا بھی بے لاگ احتساب ہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ ہمارا تھا اور ہم چاہتے ہیں کہ مجھ سمیت سب کا احتساب ہو، اس کے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمارے مسائل کا حقیقی حل اسلامی نظام کے نفاذ میں مضمر ہے ۔ جب تک ہم اسلام کی طرف نہیں لوٹتے ، مسائل میں گھرے رہیں گے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی کے دیانتدار اور مخلص لوگوں کو کامیاب کریں ، انشاءاللہ ملک میں خوشحالی آئے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ