سابق صدر جمی کارٹر کا باراک اوبامہ کو فلسطین کو تسلیم کرنے کا مشورہ

97

امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر نے صدر اوباما کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نو منتخب صدر ڈونلد ٹرمپ کے ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل فلسطین کو بطور ریاست سفارتی سطح پر تسلیم کرلیں۔

امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز میں شائع صدر اوباما کے نام اپنے ایک کھلے خط میں سابق صدر جمی کارٹر نے کہا کہ طویل عرصہ سے حل طلب یہ تنازع اب سنگین ترین صورت اختیار کر گیا ہے اس لئے امریکا کو چاہیے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دلانے کے لئے ان کی فوری مدد کرے اور فلسطین کو باضابطہ طور تسلیم کر لیا جائے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کی نئی انتظامیہ کی اس تنازع بارے کیا پالیسیاں ہوں گی اس کا کوئی پتہ نہیں ہے لیکن ہم اس انتظامیہ کی پالیسیاں جانتے ہیں اور صدر اوباما کی ترجیح تھی کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کا تنازع ختم کرائیں گے اور اس خطے میں امن قائم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اب حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور اس کے لئے عملی طور پر اوبام کو کوئی قدم اٹھالینا چاہیے۔ان کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے مستقبل کا خاکہ بنائے گا انھوں نے کہا کہ امریکا کو 20جنوری 2017سے قبل صرف فلسطین کو تسلیم کرنا ہے ۔

انہوں نے صدر اوباما کو کہا کہ ان کے پاس بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔1978 میں جمی کارٹر کے دور صدارت میں مصر اور اسرائیل کے درمیان تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدہ طے پایا تھا جس کے بارے سابق صدر نے کہا کہ38 سال گذر گئے اس معاہدہ کو اب تبدیلی و ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں اپنی غیر قانونی آباد کاری بند کرے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے،فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل ہونے اور سلامتی کونسل کی قراردادیں مل کر اس تنازع کا جامع حل بنیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ