جماعت اسلامی ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے،لیاقت بلوچ

154

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سکریکٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ انتخابی کرپشن اور بوگس ووٹر لسٹوں نے عوام کا اعتماد چھین لیاہے ، غیر جانب دار اور شفاف انتخابات عوام کا حق ہے ،پاپولر پارٹیاں ملک میں جمہوریت چاہتی ہیں لیکن خود اپنی پارٹیوں میں جمہوریت انہیں منظور نہیں جس سے سیاسی کارکنوں کا دل ٹوٹ جاتا ہے ،جماعت اسلامی کا مثبت کردار پور ی قوم کے سامنے ہے جس میں موروثیت نہیں ،ملک کے اسلامی و نظریاتی تشخص کی حفاظت ہمارا مشن ہے ، ہم آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں ،ملک میں کلمے کی سربلندی اور پاکستان کو اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مزار قائد کے پہلو میں باغ جناح کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کے تحت دوروزہ سندھ ورکرز کنونشن کے پہلے دن آخری سیشن “ہم ہیں صبح انقلاب کے ماتھے کی روشنی” کے موضوع پر صدارتی خطاب میں کیا ۔اس سیشن سے خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیر عنایت اللہ خان ، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و رکن آزاد کشمیر اسمبلی عبد الرشید ترابی ، قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ اور چیئرمین بلدیہ ٹنڈو آدم مسرور احسن غوری نے بھی خطاب کیا۔

اس سیشن میں سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی جن کے اسٹیج پر آنے کے موقع پر ان کا زبردست استقبال کیا گیا اور سراج الحق نے ان کو اجرک اور شیلڈ پیش کی ۔

علاوہ ازیں سراج الحق نے جماعت اسلامی کے مرحوم رہنماوں کے اہل خانہ کو خصوصی یاد گاری شیلڈز بھی پیش کی ۔سندھ اور کراچی میں بلدیاتی سہولتوں کا فقدان ، ٹرانسپورٹ کے نظام کی بدحالی ، پانی کی ناقص فراہمی کی مذمت اور ٹرانسپور ٹ کے کرائے کم کرنے کے لیے مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ عوام کرپشن سے نجات چاہتے ہیں ، بجلی پانی اور گیس کے درست بل چاہتے ہیں ، کرپٹ مافیا گٹھ جوڑ نے عوام سے جینا کا ھق چھین لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت پاکستان کا آئین اور پارلیمانی نظام ملک کی مضبو ط بنیاد کی ضمانت ہے لیکن کرپٹ حکمرانوں، جاگیرداروں اور چوہدریوں ، بیوروکریسی کے کلب نے جمہوریت کو داغ دار کیا ۔پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتیں قومی اثاثہ ہے لیکن اسٹیٹس کو چاہتا ہے کہ نوجوان منفی سرگرمیوں میں لگے رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ چین اور اس خطے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ہمارے حکمران چند موٹر ویز کی صورت میں اس منصوبے کو محدو د کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس میں پاکستان کے کردار کو طے کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ جیل میں پھانسی پر جھولنے والی جماعت اسلامی کی قیادت نے استعمار کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے اور نظریے پاکستان کو سچا ثابت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی سیاست شہری اور دیہی تقسیم میں ڈال کر نااہل اور کرپٹ حکمرانوں اور مفا د پرست عناصر نے صوبے کے عوام پر ظلم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ءکے انتخابات بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ہمیں پر عزم اور بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ اس کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ، فلسطین ، شام اور افغانستان میں خون ہی خون ہے ۔ پاکستان ، ترکی ۔ ایران اور سعودی عرب عالمی استعمار کا ہدف ہے ۔اتحاد امت درد مشرک اور قدر مشتر ک کی بنیاد پر متحد ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

13-anayat-ullah

عنایت اللہ خان نے کہا کہ ہم آئے تو بلدیات کی آمدنی ایک ارب روپے تھی آج یہ تقریبا پانچ ارب روپے ہے ۔ہماری مدد اور تعاون سے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی خسارے سے نکل کر اپنے قدموں پر کھڑی ہے ۔ شہر میں ڈیڑھ ارب روپے سے پانچ ماہ کے اندر ایک فلائی اوور بنایا جبکہ وہی فلائی اوور لاہور میں پانچ ارب روپے کا بنا ۔انہوں نے کہا کہ 2002ءسے 2011ءتک بلدیاتی اداروں کو مجموعی طور پر صرف 11ارب روپے دیے گئے ، ہم نے صرف ایک سال میں 15ارب روپے ان اداروں کے حوالے کیے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے تین وزراءکی کارکردگی کا پوری صوبائی کابینہ میں نمایاں ہیں ۔

14-sahibzada-tariq

صاحبزادہ طارق اللہ خان نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ ، چائنا کٹنگ کرنے والوں کی فہرست میں جماعت اسلامی کا کوئی کارکن نہیں ہے جس کا اعتراف سپریم کورٹ نے بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ سروے کے مطابق قومی اسمبلی میں اپنا فرض عمدگی سے نبھانے والے ارکان میں ٹاپ 10میں جماعت اسلامی کے چاروں ارکان شامل ہیں ۔ اگر سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے ارکان موجود ہوتے تو مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے جو بل منظور ہوا ہے وہ اس طرح منظور نہ ہونے دیتے ۔ہم نے قومی اسمبلی میں اس بل کے حوالے سے بات کی ہے۔

عبد الرشید ترابی نے کہا کہ قائد اعظم نے آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بیس کیمپ قرار دیا ، بد قسمتی سے آمریتوں اور نام نہاد جمہوریتوں کے نتیجے میں پاکستان آزاد جموں کشمیر کو بیس کمیپ نہیں بناسکا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں کشمیر میں جماعت کی دو نشستیں ہیں جن میں ایک خاتون ہے ۔ مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ دلانے کے لیے قراردادوں میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماوں کی پھانسیوں پر آزاد جموں کشمیر اسمبلی نے رد عمل ظاہر کیا ۔ آزاد جموں کشمیر حکومت کو بااختیار بنانے کے لیے بنیادی تحریک ہم نے پیش کی اور آئینی پیکج تیار کیا ہے جس میں دوسری جماعتوں نے بھی تعاون لیا جس کے بعد آزاد جموں کشمیر حکومت باوسائل بھی ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر کئی دیہات بھارتی جارحیت کے نشانے پر ہیں جن کی مدد کے لیے الخڈمت کی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔

15-masroor

مسرور احسن غوری نے کہا کہ آج ہمارا ضلع پسماندہ ہے ، سراج الحق سینٹ میں ہمارے ضلع کی گیس اور تیل کی رائلٹی دلانے کے لیے آوازبلند کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 15لاکھ روپے کا ڈیزل کرپشن سے بچالیا ہے ، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور ڈی جی ری رینجرز نے ملاقات کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
حصہ