عراق پر حملہ کرنے کے لئے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ بولاگیا،سیدمنورحسن

186

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا کہنا ہے کہ اسلام کے خلاف مغربی اقوام نے جھوٹا پروپیگنڈا کیا کہ اسلام تلوار کے ضرور پر پھیلا ، بیسوی صدی کا سب سے بڑا جھوٹ جارج بش نے بولا تھا کہ عراق کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں اور اس جھوٹ میں ٹونی بلیئر بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔ برصغیر کے معاشرے میں دعوت و تبلیغ کا کام تو ہر دور میں رہا ہے لیکن صرف دعوت و تبلیغ محض کوئی بڑی اور موثر تبدیلی نہیں لاسکتی جب تک کے اس کے ساتھ ہجرت اور جہاد شامل نہ ہو ۔

سید منور حسن نے انٹر نیشنل سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 100سال اسلامی تحریکوں کے آگے بڑھنے اور پیش رفت کرنے کے سو سال ہیں اور اس پورے عرصے میں مغرب نے اسلام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ اور لٹریچر پیدا کیا اسلامی تحریکوں نے اس کا ہر طرح سے جواب دیا ہے اور دلائل اور تجزیہ کے ساتھ جواب دیا ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد میں یکسوئی اور اطمینان پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ تلوار سے پھیلا اور یہ کہ مسلمان تشدد پسند اور انتہا پسندہیں لیکن اسلامی تحریکوں نے اس الزام کا بھی ہر سطح پر جواب دیا اور اس کو غلط ثابت کیا اور اکیڈمی کے طور پر مغرب کو اس حوالے سے شکست ہوئی ہے ۔ اس پورے عمل میں جہادی تحریکوں نے بھی اپنا موثر اور مثبت کردار اد اکیا ہے ۔ افغانستان کے اندر یہ ثابت ہوا کہ ساری سائنس ، ٹیکنالوجی جذبوں اور حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتی ۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام کی فطرت ہے کہ اسلام گالب ہونے کے لیے آیا ہے اور یہ بات مغرب اور اسلام کے دشمن بھی اچھی طرح جانتے ہیں ۔تمام اسلامی تحریکوں نے اس بات کو سیکھا ہے جو مولانا مود ی نے کہی ہے کہ ضابطوں اور قاعدوں کو کبھی نظر اندا زنہ کیا جائے ۔ اسلامی تحریکوں سے ان کا مقصد ، نصب العین اور منشور تک چھین لینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اسلامی تحریکوں نے حقیقت میں ان کوششوں اور سازشوں کو بھی ناکام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیسوی صدی کا سب سے بڑا جھوٹ جارج بش نے بولا تھا کہ عراق کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں اور اس جھوٹ میں ٹونی بلیئر بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تحریک ہمیشہ ایک نظریے اور تہذیب کی طرف بلاتی ہیں اور اسوة رسول کی صورت میں ہمارے پاس ہر طرح کی اور مکمل رہنمائی اور ہدایات موجود ہیں ۔ اسلامی تحریکیں معاشرے کا دل ہوتی ہیں اور ان پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہیں ۔ جسم کے اندر بہت سے اعضاء ہوتے ہیں لیکن اس کے اندر دل سب سے اہم ہے اسی طرح معاشرے کے لیے اسلامی تحریکیں بہت اہم ہیں ۔برصغیر کے معاشرے میں دعوت و تبلیغ کا کام تو ہر دور میں رہا ہے لیکن صرف دعوت و تبلیغ محض کوئی بڑی اور موثر تبدیلی نہیں لاسکتی جب تک کے اس کے ساتھ ہجرت اور جہاد شامل نہ ہو ۔ مکہ کے اندر دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ استعمال کیا گیا مگر جب مدینہ ہجرت کی گئی اور جہا د کا علم بلندکیا گیا تو پورا عالم عرب تبدیلیل کی راہ پر چل پڑا اور مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ