پاکستان میں تمباکو نوشی کی وبا کو کنٹرول کیا جائے، ڈی جی ہیلتھ

87

ڈی جی ہیلتھ وزارت قومی صحت نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ٹار جمع ہوجاتاہے جو کہ کینسر اور دیگر موذی امراض کا باعث بنتا ہے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کی وبا کو کنٹرول کیا جائے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں اور اُن کے مہلک اثرات کو اُجا گر کےاجائے۔

یہ بات منگل کو انھوںنے تمباکو نوشی کی دوسری قومی آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہی ۔انھوں نے عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں 31.8% مرد اور 5.8% خواتین تمباکو کااستعمال کرتی ہیں ، ڈی جی ہیلتھ نے مزید کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر ہفتے 2,000افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے 12.2%مرد اور 4.5% خو اتین شامل ہیں ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹوبیکو کنڑول سیل نے بتایا کہ ہماری وزارت ایف سی ٹی سی اور عالمی ادارہ صحت کی تمباکو نوشی کے خلاف پالیسیوں سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور ہر ممکن ان پالیسیوں پر عمل دارآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی لئے تشہیری مہم کاآغاز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ترک کرنے کا رجحان پیدا ہو گا-

وائٹل اسٹریٹجی کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر طاہر ترک نے کہاکہ ہر 30سیکنڈ کی اسپنج مہم ہے جو اس سے قبل دنیا کے دوسرے 25 ممالک میں چلائی جاچکی ہے جس سے بہت اچھے نتائج مر تب ہوئے ہیں ۔طاہر ترک نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان میں بھی اس مہم سے بہت اچھے نتائج پیدا ہوں گے ،اور تمباکو نوشی کے معزر اثرات عوام تک پہنچ سکیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ