مزدور تحریک کو اپنے بچاؤ کے لیے نئی صف بندی کرنا ہوگی،معراج الہدیٰ

116

امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نئے انداز میں حملہ آور ہے۔ مزدور تحریک کو اپنے بچاؤ کے لیے نئی صف بندی کرنا ہوگی۔ پروفیسر شفیع ملک کی تصنیف مزدور تحریک پر ایک احسان ہے۔ پاکستان کے محنت کش کتاب سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’وی ٹرسٹ‘‘ کراچی کے تحت نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے سابق بانی صدر اور ملک کے ممتاز بزرگ مزدور راہ نما پروفیسر شفیع ملک کی کتاب ’’اسلامی مزدور تحریک کی سفر کہانی‘‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کی صدارت نیشنل لیبر فیڈریشن اور پیاسی یونین کے سابق صدر حافظ محمد اقبال نے کی اور مہمان خصوصی کے فرائض ویب کوپ کے چیئرمین احسان اللہ خان نے انجام دیئے۔ تقریب سے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر رانا محمود علی خان، ڈائریکٹر جنرل نیلاٹ شیخ امتیاز، ممتاز کالم نگار معین کمالی، کالم نگار پرویز رحیم، عطا تبسم و دیگر نے خطاب کیا۔ قابل ذکر بات یہ تھی کہ تقریب میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے سابق صدور محمد اسلام، شمس الرحمن سواتی شریک تھے جبکہ معراج الدین خان مرحوم کی نمائندگی ان کے صاحبزادے سلمان فاروق نے کی۔ تقریب میں نائب امیر جماعت اسلامی کراچی برجیس احمد، این ایل ایف کے سابق سیکریٹری جنرل زاہد عسکری، این ایل ایف سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ، این ایل ایف کراچی کے صدر عبدالسلام، سیکریٹری جنرل قاسم جمال، این ایل ایف حیدرآباد کے صدر شکیل شیخ، حبیب بینک ورکرز فرنٹ کے سیکریٹری جنرل حبیب الدین جنیدی، پیاسی کے صدر عبیداللہ، پاسلو کے صدر حاجی خان لاشاری، جنرل سیکریٹری ظفر خان، پریم یونین کراچی کے صدر راجہ عبدالمناف، سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالوحید قریشی، سیمنس ایمپلائز یونین کے صدر فہیم صدیقی، کے پی ٹی شمع یونین کے صدر لالہ نذیر، جنرل سیکریٹری مناظرالحسن، شپ یارڈ شمع یونین کے سابق صدر احمد خان کے علاوہ بڑی تعداد میں ٹریڈیونین راہ نماؤں اور مختلف شعبہ جات کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔

18-meraj

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ محنت کشوں کو پوری قوت کے ساتھ اس طاغوتی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کے مصنف پروفیسر شفیع ملک کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ ان کی جدوجہد سے مستفید ہوکر مزدور تحریک بڑی کام یابی حاصل کرسکتی ہے۔

معروف صنعتکار، ویب کوپ کے چیئرمین اور تقریب کے مہمان خصوصی احسان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کے صنعتی حالات بہت خراب ہیں۔ جس کی وجہ سے ملازمتوں کی قلت ہوچکی ہے اور مستقبل میں اس بحران میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے آجرومحنت کش …دونوں فریقین کو اس صورتحال کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر صاحب کی کتاب مزدور تحریک کا ایک حوالہ ہے۔ مزدوروں کو اپنی تاریخ یاد رکھنی چاہیے جو قومیں اپنی تاریخ یاد نہیں رکھتیں، وہ مٹ جاتی ہیں۔

پروفیسر شفیع ملک نے اپنی چھ دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کو اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ پاکستان کی مزدور تحریک کے لیے ان کی بڑی خدمات ہیں۔ نظریاتی مخالفین بھی شفیع ملک کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ محنت کشوں کے لیے راہ نمائی کا باعث بنے گا۔

این ایل ایف کے سابق صدر اور صدر مجلس حافظ محمد اقبال نے اپنی ضعیف العمری اور بیماری کے باوجود اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ اسلامی مزدور تحریک پروفیسر شفیع ملک کی ولولہ انگیز قیادت اور ان کی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلباء اور این ایل ایف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سرخ انقلاب کا راستہ روکنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر رانا محمود علی خان نے کہا کہ میرا اور پروفیسر شفیع ملک صاحب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پروفیسر شفیع ملک نے این ایل ایف کو نظریاتی تحریک کے طور پر پیش کیا اور ثابت کیا کہ اسلام کے عادلانہ نظام کے ذریعے ہی محنت کشوں کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ این ایل ایف نے پروفیسر شفیع ملک کی قیادت میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل، ریلوے، پی این ایس سی، کراچی شپ یارڈ میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ پروفیسر شفیع ملک نے اپنی کتاب میں اپنے ہمعصر مزدور فیڈریشنز کے راہنماؤں …ایس پی لودھی، نبی احمد، معز صدیقی، شریف احمد، سلیم رضا اور کنیز فاطمہ کا ذکر بہت اچھے انداز میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر قوانین اور ٹریڈیونین کی بہتری کے لیے ملک صاحب کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

نیلاٹ کے چیئرمین امتیاز شیخ نے کہا کہ مجھے تین دہائیوں سے پروفیسر شفیع ملک کی شفقت و محبت حاصل ہے۔ پروفیسر شفیع ملک صاحب کو مزدور قوانین، معاشیات اور اسلامی تعلیمات پر عبور حاصل ہے۔ کثیر مطالعے اور ذوق علم کی وجہ سے اسلامی مزدور تحریک میں ان کی کتاب تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر کے متعدد اداروں کے نصاب میں ان کی تصنیفات کے اہم حصے شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک صاحب کی تصانیف لیبر فیلڈ کی موجودہ اور آئندہ قیادت کے لیے روشنی کا مینارہ ثابت ہوں گی۔

کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف معین کمالی نے کہا کہ 60سال قبل ملک صاحب نے مجھے ’’سلامتی کا راستہ‘‘ نامی کتابچہ دیا تھا۔ اس کتابچے نے میری راہ نمائی کی اور میں آج بھی ملک صاحب کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی پوری کوشش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک صاحب جیسی شخصیات لوگوں کے لیے شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی ہے۔

کتاب کے مصنف پروفیسر شفیع ملک نے اس موقع پر حاضرین سے کہا کہ میں اس کتاب میں اپنی پوری جدوجہد کو پیش کرنے سے قاصر رہا ہوں۔ میں نے اس کتاب میں کسی منفی سوچ کو داخل نہیں ہونے دیا اور میں نے کتاب لکھتے وقت اس عہد کی پاسداری کی۔ میں نے اپنے مخالفین کو ان کا حق پہنچایا ہے اور سچ اور حق لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایل ایف میں میرے بعد آنے والے صدور نے بھی بہت کام کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے تنظیم کو استحکام بخشا ہے۔ ان کی خدمات بھی کسی طور کم نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کے بنیادی خیال کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 73ء کا دستور اس بات کا کھلم کھلا اعلان کرتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس اسلامی ریاست میں سرمایہ دارانہ نظام کا وجود ہمارے دوغلے پن کا مظہر ہے جس کی وجہ سے پاکستان بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ اسلامی ریاست میں مزدور تحریک کا ہدف اسلام کے عادلانہ نظام کا قیام ہے جس پر نیشنل لیبر فیڈریشن اول روز سے کام کررہی ہے اور یہی نظام ہمارے حقوق کا ضامن ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ