کراچی:خودسوزی کرنے والا طالبعلم عبدالباسط سپردخاک

48

کراچی: خود سوزی کرنے والے میڈیکل کے طالب علم عبدالباسط کو مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں مرحوم کے دوستوں ، رشتہ داروں کے علاوہ مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

مرحوم کی والدہ کا کہنا ہے ان کے لخت جگر کو جلا کر مارا گیا ، دکھیاری ماں نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے اپیل کی ہے کہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ پرنم آنکھیں ، بھرائی ہوئی آواز ، ملول چہرہ ، میڈیکل کے طالب علم عبدالباسط کی غم سے نڈھال دکھیاری ماں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو جلا کر مارا گیا ۔ عبدالباسط کی والدہ کا کہنا ہے ان کی دنیا تو اجڑ گئی لیکن دوسرے بچوں کو بچا لیا جائے ۔

دوسری جانب کراچی میں خودسوزی کرنے والے میڈیکل کے طالبعلم عبدالباسط کے بارے میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر فرقان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق عبدالباسط گزشتہ سات سال سے امتحانات میں فیل ہو رہا تھا ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے طالب علم نے خودسوزی کی یا آگ لگائی گئی تاحال کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ عبدالباسط نے 2007 میں ہمدرد یونیورسٹی میں بی ڈی ایس میں داخلہ لیا ۔

یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق عبدالباسط گزشتہ 7 سال سے امتحانات میں فیل ہو رہا تھا ۔ تاخیر سے پہنچنے پر عبدالباسط کو امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا گیا ۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر فرقان کا کہنا ہے پرچہ شروع ہونے کے بعد امتحانی مرکز میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ایس ایچ او تیموریہ محمد عرفان کا کہنا ہے کہ طالب علم نے خود سوزی کی یا آگ لگائی گئی تاحال کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ ادھر عبدالباسط کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں طالب علم کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ نماز جنازہ کے بعد عبدالباسط کی مقامی قبرستان میں تدفین کر دی گئی ۔