امریکا کی 23ریاستوں کا شامی تارکین وطن کو بسانے سے انکار

39

امریکا کی نصف سے زیادہ ریاستوں نے پیرس میں حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کی وجہ سے شامی تارکین وطن کو لینے کا عمل روک دیا ہے۔

مشی گن ریاست کے گورنر رک سنائیڈر نے کہا ہے کہ سکیورٹی جائزے تک وہ شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو معطل کر رہے ہیں اسی طرح البامہ، ٹیکساس، وسکونسن، ایریزونا، مسیسیپی، انڈیانا سمیت 17 ریاستوں کی جانب سے شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو روکنے کا اعلان کیا ہے تاہم محکم خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا قانونی جواز تاحال غیر واضح ہے لیکن اس ضمن میں امریکی صدر باراک اوباما کو ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شدید سیاسی دباؤ اور ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ ایک ڈیموکریٹ گورنر نے بھی اپنی ریاست میں 10ہزار شامی تارکین کی آباد کاری کا منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر اوباما نے زور دیا ہے کہ امریکا شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں سے نکلنے والے شہریوں کو قبول کرنے میں آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے۔’شامی تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے سختی سے بند کرنا ہمارے اقدار سے غداری ہے۔ہماری قوم کو ان پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنا چاہیے جو شدت سے تحفط کے متلاشی ہیں اور ہماری سکیورٹی کو بھی یقینی بنائیں گے، ہمیں دونوں کو لازمی طور پر کرنا چاہیے۔

حصہ