آ?? جون ، سمندرو? ?ا عالم? دن

67

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 8 جون بروز پیر کو سمندروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق 1992 سے ہر سال اس دن کو منایا جا تا ہے اس دن کو منانے کا مقصد عام انسان کو سمندر اور اس سے جڑے آبی جانوروں کی زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا مقصود ہیں ۔

عالمی دن کے حوالے سے پاکستان بھر میں سیمینار اور ورکشاپ منعقد کی جارہی ہیں جس میں ماہرین عوام الناس میں سمندر کے بارے میں اگاہی اور اسے آلودگی سے بچانے کے لئے اقدامات کے حوالے سے معلومات مہیا کرینگے اس کے علاوہ سمندری حیات کے زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے ضروری معلومات فراہم کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق سمندر سے 40 فیصد تازہ پانی اور 50فیصد کے قریب آکسیجن حاصل ہوتی ہیں ۔

پاکستان کا ساحل سمندر 1050 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ پاکستان ہر سال سمندر سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آبی اشیاء بیرون ممالک فروخت کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ 45لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں۔ پاکستان کے سمندری حدود میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ جہازوں اور لانچوں کا بہنے والا گندا تیل اور بغیر صفائی کے فیکٹریوں سے آنے والا فضلہ،زہریلے کیمیکل وغیرہ ہے ۔

پاکستان کی صنعتوں اور رہائشی علاقوں کا استعمال شدہ نصف سے زائد پانی سیوریج کے ذریعے ندیوں ،دریاؤں سے ہوتا ہوا سمندر میں بہایا جاتا ہے ۔جس سے سمندر آلودہ ہوتے ہیں سمندری آلودگی سے آبی حیات بری طرح متاثر ہوتی ہے ، خاص طور پر سمندرسے حاصل ہونے والی خوراک، مچھلیاں ، جھینگے ، کیکڑے وغیرہ اس کے علاوہ سمندری نباتاتی حیات پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ