عالم? برادر? رو?نگ?ا مسلمانو? ?? نسل ?ش? ?? خلاف خاموش? تر? ?ر?، اسدالل? ب??و

125

 نائب امیر جماعت اسلامی اسداللہ بھٹو نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور عالمی برادری برما میں مظلوم اور نہتے مسلمانوں کی نسل کشی اور بدترین مظالم پر مجرمانہ خاموشی ترک کریں۔

 نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسداللہ بھٹو نے اتوار کے روز جماعت اسلامی کراچی کے تحت برما میں بدھسٹ حکمرانوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام ‘ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور غفلت اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی کے خلاف نمائش چورنگی سے سی بریز تک ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مارچ سے خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان فوری طور پر برما کے سفیر کو طلب کرے اور با ضابطہ احتجاج کرتے ہوئے برما پر واضح کرے کہ اگر 10 دن کے اندر اندر مظالم کا سلسلہ بند نہ کیا تو برما سے سفارتی تعلقات ختم کردیے جائیں گے۔

asadullha-bhutto

اسداللہ بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ مشرقی تیمور کی طرح برما میں بھی رائے شماری کرائے اور برما کے اراکان کےلئے الگ ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کے اندر مظالم اور جبر سے مجبور ہو کر ہجرت کرنے والوں کو پناہ دینا ضروری ہے لیکن قریبی اور پڑوسی ممالک مظلوم روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے پر تیار نہیں ہے۔ برما کے اندر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے نوجوانوں مردوں اور خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ برما کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں۔

 اس موقع پرجماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمدحسین محنتی نے بھی شرکاء سے خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا کہ آج برما کے مسلمانوں کی کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اور پوری امت کے عوام اس درد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ برماکے بدھسٹ حکمرانوں نے برماکے مسلمانوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہاں کے مسلمان وقتاً فوقتاً ہجرت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ آج ان کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ ان کی بستیاں، مکانات اور مساجد جلائی جارہی ہیں۔ نوجوانوں مردوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ عورتوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان کی حکومت سمند ر میں پھنسے مسلمانوں کےلئے بحری جہاز روانہ کرے ۔

hafiz-naeem

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ برماکے مسلمانوں پر جو ظلم و تشدد کا بازار گرم ہورہا ہےاس پر تو پوری عالمی برادری کو اٹھ جانا چاہئے تھا لیکن عالمی برادری کا ضمیر کیوں نہیں جاگ رہا صرف اس لئے کہ یہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی تاریخ بہت قدیم ہےاور یہ ایک آزاد مسلم ریاست تھی لیکن سامراجی طاقتوں کو اس مسلم ریاست کی آزادی سلب کی گئی اور بدھسٹ حکمرانوں کی سرپرستی کی گئی۔ 1942 میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور یہ قتل عام آج بھی جاری ہے لیکن کوئی آواز بلند نہیں کررہا ۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو آزادی کا حق دیا جائے اور وہاں مسلم ریاست کا اعلان کیا جائے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے قتل عام بند کرائیں ۔

مولانا نور محمد اراکانی نے کہا کہ صدیوں سے یہ مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں اور مسلمانوں کو بے دخل کیا جارہا ہے ۔ اس وجہ سے مسلمان ہجرت کرنے پرمجبور ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم عوام اور حکمرانوں کو پوری قوت کے ساتھ برمی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانی پڑے گی ورنہ قتل عام نہیں رک سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے برمی مسلمانوں کے حق میں احتجاجی مارچ کر کے ثابت کردیا ہے کہ مسلمان بھائی دوسرے مسلمان بھائی کا درد محسوس کرتا ہے اورایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو بے یار و مدد گار ہرگز نہیں چھوڑے گا۔

 احتجاجی مارچ میں انسانی حقوق کی علمبردار آنگ سان سوچی کے دوہرے معیار اور روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کرنے پر ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی اور آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ مارچ کے شرکا نے ایک بڑا ۔”Burma Stop Muslims Masscare “بینر بھی اٹھایا ہوا تھا جس پرتحریر تھا   تحریر تھا

protest---people

 مارچ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پرروہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مذمتی نعرے درج تھے۔ اس موقع پر شرکا نے فلک شگاف نعرے بھی لگائے ، احتجاجی مارچ سے جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمدحسین محنتی، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن،جماعت اسلامی کراچی کے نائب امرا مظفر احمد ہاشمی، ڈاکٹر اسامہ رضی، روہنگیا مسلمانوں کے رہنما مفتی مولانا نورالبشر ، نور محمد اراکانی، ذبیح اللہ قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ