ت?ر م?? ران? ???ت ن? تبا?? مچاد?، 500 مور ?لا?

150

تھر میں حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث ایک بار پھر رانی کھیت نامی بیماری نے سر اٹھایا ہے جس کے نتیجے میں ابھی تک 500 مور اس کا شکار ہوچکے ہیں

میڈیا زرائع کے مطابق رانی کھیت کی بیماری نے پچھلے پانچ ماہ کے دوران 500 سے زائد مور اس بیماری کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں اور متعدد مفلوج ہیں مقامی افراد کے مطابق اگر حکومت نے برقت اقدام نہ کئے تو مستقبل قریب میں تھر اور گردونواح میں مور کی نسل معودم ہوجائےگی۔

اس سے قبل 2013 میں بھی رانی کھیت کی بیماری نے متعدد موروں کی جان نگل لی تھی ۔

طبی حکام کے مطابق رانی کھیت ایک متعدی اور موذی بیماری ہے۔ جو کہ پیرامکسو وائرس کے باعث پھیلتی ہے عام طور پریہ گھریلو مرغیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بطخوں، کبو تر، طوطوں اور دیگر جنگلی پرندوں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔

اس بیماری کی خاصیت میں عملِ انہظام، اعصابی نظام اور نظامِ تنفس کو متاثر کرنا ہے۔ اس بیماری کی صورت میں پہلی علامات سانس کی تکلیف سے شروع ہوتی ہے۔ ایک دو دن بعدپر اور ٹانگیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور پرندے کا سر کندھے کی طرف مڑ جاتا ہے۔ بالغ پرندوں میں سانس کی تکلیف اور فالج کے ساتھ ساتھ پیداوار میں بھی کمی ہو جا تی ہے۔ اس بیماری کے پائے جانے کی شرح اور شرحِ اموات مختلف پرندوں میں مختلف ہوتی ہے ۔

آلودہ پانی اور ناقص غذا بھی اسکے پھیلنے کا سبب بنتی ہیں ۔

واضح رہے کہ تھر میں قحط سالی کی وجہ سے لوگ اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں اور یہ پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے جس کے باعث جانوروں کے علاوہ انسانوں میں بھی گیسٹرو کی وباء بھیل رہی ہیں اگر فوری سدباب نہ کیا تو وہاں نایاب پرندوں کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی بھی معدوم ہوجائے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ