مرس? اور د?گر افراد ?و سزائ?? انسان? حقوق اور اقوام متحد? ?? چار?ر ?? پامال? ??،ل?اقت بلوچ

67

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مصر میں جمہوریت ،انسانیت اور انصاف کے قتل پر عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔مصر کی جعلی عدالت سے منتخب صدر صدر مرسی سمیت سیکڑوں افراد کو سزائیں انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی ہے،دنیا بھر کی جمہوری اور اسلامی قوتوں کو متحد ہوکر اس ظلم کا راستہ روکنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام صدر مرسی ،اخوان کے مرشد عام محمد بدیع ،عالم دین علامہ یوسف القرضاوی اور اخوان المسلمون اور حماس کے مظلوموں سے بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے جمہوری حقوق کی حمایت اور ان کو دی جانے والی سزاﺅں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر مصر کے منتخب صدر محمد مرسی اور دیگر رہنماﺅں سمیت سو سے زائد محب اسلام اور جمہوریت پسندوں کو مصر کی جعلی عدالتوں سے سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،نائب امراءبرجیس احمد ،اسامہ رضی،ضلع شرقی کے امیر یونس بارائی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تحت مصر میں فوجی عدالتوں اور جنرل سیسی کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی وجمہوری حقوق کی پامالی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری رہے گا،مصر کے سفارت خانے سمیت یورپی ممالک کے سفارتخانوں میں احتجاجی یادداشتیں پیش کی جائیں گی اور اس کی مذمت اور نفرت کا اظہار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی قیادت کو بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسلامی ممالک کے حکمران امریکا اور یورپ سے پینگیں بڑھا کر عوام کے احساسات و جذبات کے برخلاف جانے سے باز رہیں اور اپنے رویے کو تبدیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن ہے اس پر کوئی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے تو عالم اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرے گا،یمن کی صورتحال کو بنیاد بنا کر سعودی عرب کو کسی خطرے سے دوچار کرنا منظور نہیں ہوگا۔ سعودی عرب کی طرف سے پالیسیوں میں تبدیلی پر عالم اسلام خیر مقدم کرتا ہے سعودی عرب کو بھی چاہیے کہ وہ مصر میں جمہوری اور اسلامی قوتوں اور عوام کا ساتھ دیں ۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے ساتھ دہرا معیار رکھا جارہا ہے،مصر میں جمہوریت کا مذاق اڑایا جارہا ہے،بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے،کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے،عالمی ضمیر اور عالمی عدالتِ انصاف اس پر کیوں خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون مصر میں ایک مشہور اور جمہوری قوت ہے لیکن اس کا راستہ روکا جارہا ہے،مصر کے عوام نے اخوان اور مرسی پر باربار اعتماد کااظہار کیا لیکن ان کے جمہوری حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکا اور یورپ مسلم دنیا میں آئینی اور جمہوری راستے بند کر کے انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیںلیکن اسلامی تحریکیں پر امن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہیںاور اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنا دیں گی،انہوں نے کہا کہ جنرل سیسی کی جعلی عدالت نے مصر میں انصاف کی دھجیاں بکھیر دی ہیں جن کے خلاف سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے بیشتر کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مصر کے عوام نے صدر مرسی پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں صدر منتخب کیا اخوان نے عوام کے مسائل کرنا شروع کیے محمد مرسی کی منتخب حکومت کا مشن تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کی جائے گی اور ان کے اسی جرم میں ان کی حکومت پر شب خون مارا گیا اور ان کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔اخوان المسلمون نے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تو ان پر جنرل سیسی نے فوجی ٹینک چڑھا دیے اور سڑکوں پر لاشیں بکھیر دیں لیکن وہ آج بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور جمہوری احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔برجیس احمد نے کہا کہ مصر میں فوجی حکومت نے عوامی اور جمہوری حمایت سے آنے والی حکومت کے خلاف کاروائی کی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا اور مغرب کو اسلام پسندوں کی پیش قدمی کسی صورت میں قبول نہیں خواہ وہ جمہوری اور آئینی راستوں ہی سے آگے کیوں نہ بڑھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ