س?س بل ?? منظور? س? ف??ر?شن ?مزور?و گ? ، عمران خان

95

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم سیس بل کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں اس قسم کے بلوں کی منظوری سے پاکستان کی فیڈریشن کو خطرہ ہے ۔ آصف زرداری اور نوازشریف اپنے مفاد کی خاطر ایک ہوجاتے ہیں جس سے پاکستان کو نقصان پہنچتاہے جب کہ  دونوں نے مشاورت سے نیب کا سربراہ لگایا جس نے ان کے تمام کرپشن کیسز ختم کردیئے۔

اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بل کے منظور ہونے سے چھوٹے صوبوں میں مزید احساسی محرومی بڑھے گا ۔ اور حکومت کے اس اقدام سے پنجاب کے خلاف نفرتوں میں اضافہ ہوگا ۔ عمران خان کا کہنا تھا اگر حکومت کو یہ بل لانا ہی تھا تو مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے لاتی ۔ ان کا کہنا تھا اس بل کی منظوری سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور صنعتیں مزید تباہ ہو جائیں گی ۔ سب سے زیادہ نقصان خیبرپختون خوا کی صنعتوں کو ہو گا جہاں پر 70 فیصد صنعتیں بند ہو جائیں گی ۔

عمران خان کا کہنا تھا پیپلزپارٹی والوں نے سیس بل کے خلاف تقریں کی مگر جب منظوری کا وقت آیا تو بل کے حق میں ووٹ دے دیا ۔ نواز شریف اور آصف زرداری نے آپس میں مک مکا کیا ہوا ہے ۔ جب زرداری کو ضرورت ہوتی تھی تو نواز شریف ساتھ دیتے تھے اور اگر نوازشریف کو ضرورت پڑتی ہے تو زرداری ساتھ دینے آ جاتے ہیں ۔ میثاق جمہوریت دونوں جماعتوں کا مک مکا ہے،دونوں جماعتوں نے مل کرنیب کے سربراہ کو لگایا، نوازشریف اور زرداری مفادات کے لیے اکٹھے ہوجاتے ہیں، آصف زرداری نوازشریف کی حکومت کیلیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

عمران خان  کا کہنا تھا تحریک انصاف کو چیف جسٹس آف پاکستان پر مکمل اعتماد ہے  اور جوڈیشل کمیشن جو بھی فیصلہ دے گا ہمیں منظورہوگا، ہمارے ثبوتوں کی وجہ سے ہی این اے 125 کا فیصلہ عوام کے سامنے آیا اور این اے 122 کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا 2015 الیکشن کا سال ہے۔

سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میرے اختیار میں ہوتی تو میں ذوالفقار مرزا کےالزامات کی تحقیقات ضرور کرواتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی اپوزیشن نہیں ہےدونوں نےمشاورت سے نیب کا سربراہ لگایا جس نے نوازشریف ورآصف زرداری کے تمام کرپشن کیسز ختم کردیئے۔ زرداری صاحب سے پوچھیں کہ انکی کتنی پراپرٹی ہے،انکی سندھ میں کتنی شوگر ہیں؟

پاک چائنا اقتصادی راہداری کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ پروجیکٹ پاکستان کی کامیابی کے لئے بہت ضروری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 2013 میں مفاہمتی یادداشت کے پر دستخط ہوئے  لیکن کسی کو راہداری روٹ کا علم نہیں ہے، جب کہ اس روٹ کے ذریعے بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی پاکستان کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوجائیں گی لہذا اس منصوبے کے ذریعے پسماندہ علاقوں کی ڈیولپمنٹ کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ