سانح? ?راچ? م?? ملوث افراد ?ا پت? چل گ?ا ??، چو?در? نثار

57

وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سانحہ کراچی میں ملوث افراد کا پتہ چل گیا ہے ، سانحہ کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں مگر ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کوئی ٹی ٹوئنٹی یا پچاس اوورز کا میچ نہیں ۔ سانحہ صفورہ کے ذمے داروں کو کٹہرے میں لائیں گے ۔ اب تک انٹیلی جنس بیس پر 10 ہزار سے زائد آپریشن کیئے جا چکے ہیں ۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سانحہ کراچی کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں ، تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر بڑی احتیاط سے تحقیقات کر رہے ہیں یہ اس لئے کہ دہشتگردی کی جنگ کوئی ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں ہے ۔ دہشتگرد سوفٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ دہشتگرد مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر دہشتگردی کے خلاف قوم متحد ہے ۔ ان کا کہنا تھا جس دن سانحہ کراچی پیش آیا،ڈی جی رینجرزسےپورےدن رابطےمیں رہا، سیکیورٹی ایجنسیوں سےمتعلق آج ہم نےیونیفارم پالیسی پربات چیت کی ہے ۔

چوہدری نثار علی کا کہنا تھا انٹیلی جنس بیس 10 ہزار آپریشن کیئے جا چکے ہیں ، ابھی تک 36 ہزار گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں ، مگر پاکستان میں خاک و خون کی ہولی کھیلنے والے ختم نہیں ہوئے ، کے پی کے ، فاٹا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس بیس آپریشن کیئے جارہے ہیں ۔ بہت سارے انٹیلی جنس آپریشنز پولیس کے ذریعے کرائے گئے ۔ سانحہ کراچی کے پیچھے جوبھی لوگ ہیں ہم ان تک پہنچیں گے۔ گرفتاریوں سےمتعلق نہیں کہہ سکتے کہ اصل کردار یہ ہی ہیں، ملزمان سے ہونے والی تفتیش میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ ایک دھماکےسےہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کی مہینوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔

چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کراچی کا دورے کا مقصد اسماعیلی کمیونٹی سے اظہار ہمدردی اور کراچی سانحہ پر بریفنگ لینا تھا ، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا جس دن وزیراعظم صاحب آئے میں اس بیمار تھا اور اس حوالے سے جو پروپیگنڈا کیا گیا اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا جب حکومت سنبھالی تو روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 دھماکے ہو رہے تھے مگر ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی کوششوں سے اب ایسی صورتحال نہیں ہے ۔ آپریشن کے دوران کچھ لوگ مارے گئے کچھ سرحد پار کر کے فرار ہو گئے کچھ چھپےہوئےہیں۔

عمران فاروق قتل کیس پر آئندہ دو سے تین دن میں بات کروں گا ۔ گرفتارشخص سےمتعلق برطانیہ کیساتھ کیامعاملات چل رہےہیں،اس پربعدمیں بات کرونگا، کراچی میں گرفتارہونیوالےشخص کی جےآئی ٹی رپورٹ مجھےمل گئی ہے ، چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا صرف وزیراعلیٰ سندھ نہیں وزیراعلیٰ کے پی کے کا بھی دفاع کریں گے ۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا نجی سیکیورٹی ایجنسیوں کا شفاف طریقے سے احتساب ہونا چاہیے، کراچی میں 300 نجی سیکیورٹی ایجنسیاں کام کررہی ہیں،نجی سیکیورٹی ایجنسیاں بنانے کا مقصد سول آرمڈ فورسز کی مدد کرنا تھا،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتیں اورفوج ایک پیج پرہیں، ہم دہشتگردوں کےایجنڈے پر نہ چلیں، قوم کو تقسیم نہ ہونے دیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا غیر ملکیوں کی رجسٹریشن ، نارا کی کارکردگی صفر تھی اس لئے اس کو نادرا میں ضم کر دیا گیا ۔ ہمیں کراچی کی سیکیورٹی سب سے زیادہ عزیزہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ