سند? م?? غ?ر جانبدار گورنر لگا?ا جائ?،ل?اقت بلوچ

83

جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ نے کہا کہ 12مئی کا سانحہ ملک و ملت کی تاریخ کا المناک سانحہ اور فاشزم کی بدترین مثال ہے ۔کراچی کو جس طرح یرغمال بنا کر بے گناہ انسانوں کو قتل کیا گیا اس کی مثال نہ ملک میں ملتی ہے اور نہ ملک کے باہر۔ کراچی میں مجر موں کے خلاف تمام جماعتوں کے اتفاق سے شروع کیا جانے والا ٹارگٹڈ آپریشن بلاامتیاز جاری رہنا چاہیے۔ کراچی میں دہشت گری کے پیچھے جو ماسٹر مائنڈ ہے اس کو بھی گرفت میں لا یا جائے۔ سند ھ میں غیر جانبدار گورنر لگایا جائے،ایم کیو ایم کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے،اسے دوبارہ کسی اور صورت میں کراچی پر مسلط کرنے کی کوشش کراچی کے عوام کے ساتھ نا انصافی ہوگی،قاتلوں کو تحفظ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے تحت 12مئی سے سانحہ بلدیہ تک کراچی میں جاری دہشت گردی امن کیسے بحال ہوگا کے موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے محمد اسلم غوری،مسلم لیگ ن کے عرفان اللہ مروت،جمعیت علمائے پاکستان کے صدیق راٹھور،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،کراچی بار کے صدر نعیم قریشی ایڈووکیٹ،جمعیت علمائے اسلام س کے مفتی حماد اللہ مدنی،جماعت الدعوة کے حافظ امجد ہزاروی،مسلم لیگ فنکشنل کے رفعت اعوان ،اقلیتی برادری کے نمائندے یونس سوہن ایڈووکیٹ،جمعیت علمائے پاکستان کے عقیل انجم قادری،محمد حلیم خان غوری،معروف وکیل اقبال عقیل ایڈووکیٹ ،سابق رکن سندھ اسمبلی یونس بارائی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز نے انجام دیئے۔ اس موقع پر شرکاءکی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا اورسانحہ12مئی کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے اورلندن میں جاری تحقیقات کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آئی ہے،اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ لندن میں ایک الگ کھیل کھیلا جارہا ہے اور اسلام آباد میں ایک الگ کھیل کھیلا جارہا ہے،اس گندے کھیل کو اب ختم ہونا چاہیے،قاتلوں کو تحفظ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ عمران فاروق کے قاتلوں کو سزا ملنی چاہیے،ایک با ر پھر سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی غلطی کو دہرا رہی ہے،کراچی میں ظالموں کو مظلوم بنایا جارہا ہے اگر گورنر کی سرپرستی میں کوئی اور ایم کیو ایم بنانے اور مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لندن کی اے پی سی میں مشترکہ اعلامیہ میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کو کوئی جماعت اقتدار میں شامل نہیں کرے گی،لیکن پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آکر اس کی خلاف ورزی کی،پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی بحال ہوئے،ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ سانحہ12مئی کے واقعات کی تحقیقات کرتے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ 12مئی کے دن ہم کراچی میں تھے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایم کیو ایم کے افراد سرکاری سرپرستی میں اسلحہ لے کر اور پارٹی کے جھنڈے لہرا کر دندناتے پھر رہے تھے اور کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے حالات کی خرابی میں بیرونی مداخلت اور بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،ملک کے حساس اداروں کے پاس اس حوالے سے کافی مواد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام امن امان اور دہشت گردی کے علاوہ بھی دیگر مسائل سے دوچار ہیں پانی کے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے،کراچی کے عوام کے تمام مسائل حل ہونا چاہیے۔کراچی کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 12مئی کوایم کیو ایم کے وزیر داخلہ وسیم اختر نے شہر کو بند کیا تھا۔ عشرت العباد گورنر ہاﺅں میں موجود تھے ۔ملک کے صدر جنرل مشرف تھے ۔آج گورنر سندھ کو ہٹانے کی بات کی جارہی ہے ۔یہ گورنر کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔گورنر سندھ کو برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں اور ان کو ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے ۔ملک کے اندر ایم کیو ایم جیسی مافیا کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔لندن کی اے پی سی میں ملک کی تمام جماعتیں موجود تھیں اور یہ طے کیا گیا تھا ایم کیو ایم کو کوئی جماعت حکومت میں شامل نہیں کرے گی لیکن اس فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا ۔کراچی کے اندر سب کو ایک پیج پر آنا چاہیئے اور کھل کر کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اُٹھانا چاہیئے ۔سانحہ 12مئی کی مکمل طور پر تحقیقات ہونی چاہیے ۔اچھی ایم کیو ایم اور ُبری ایم کیو ایم کا نظریہ شہر کے حالات خراب کرے گا ۔دہشت گرد ،دہشت گردہیں خواہ وہ کتنے لاکھ ووٹ بھی لے لیں وہ دہشت گرد ہی رہیں گے ۔

صدیق راٹھور نے کہاکہ ہم جب 12مئی 2007کا ذکر کریں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ڈاکٹیٹروں نے ہمیشہ عوامی اور جمہوری آواز کو دبایا ہے ۔سابق میئر عبد الستار افغانی کی بلدیہ کو صرف اس لیے ختم کر دیا گیا کہ ہم موٹر وہیکل ٹیکس بلدیہ کو دینے کامطالبہ کیا تھا۔آمر کے دور میں ہم پر شیلنگ کی گئی اور ہم کو جیل بھیج دیا گیا ۔12مئی 2007ءکے لیے کو ئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان 12مئی 2007ءکا نوٹس لیں اور مرحومین کو انصاف دلائیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ