پان? ?و ترس? اور بجل? س? پر?شان عوام ?? سات? ???،اسد الل? ب??و

102

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق ممبر قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو نے کہا کہ پانی کوترسے اوربجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام کے ساتھ ہیں ، حکمرانوں نے کراچی کو میدان کربلابنادیا ،عوام کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے ،نام نہاد حقوق کا نعرہ لگانے والے بتائیں کہ وہ صوبائی اورشہری حکومت میں رہتے ہوئے عوام کو بجلی اور پانی فراہم کیوں نہ کرسکے ،پیاسے شہری پانی کی بوند بوندجمع کرتے رہے اور 12مئی کو شہرکی ملکیت کے دعویدار کراچی کو خون میں نہلانے کی مہم میں مصروف نظرآئے ،عوام کوپانی اوربجلی کی فراہمی بحال اور ٹینکر مافیا سے نجات دلائی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق ممبر قومی اسمبلی اسد اللہ بھٹو نے دفتر جماعت اسلامی شرقی میں منعقدہ امرائے مقام کے اجلاس میں کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی محمدیونس بارائی ،قیم نعیم اختر، نائب امرائے ضلع سید افتخار احمد ،سید توفیق الدین صدیقی ،مرتضی غوری ،امرائے مقام اوردیگرذمہ داران موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق ممبر قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو نے کہا کہ پانی کوترسے اوربجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام کے ساتھ ہیں ، حکمرانوں نے کراچی کو میدان کربلابنادیا ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے ،نام نہاد حقوق کا نعرہ لگانے والے بتائیں کہ وہ صوبائی اورشہری حکومت میں رہتے ہوئے عوام کو بجلی اور پانی فراہم کیوں نہ کرسکے ۔ سابق ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ پیاسے شہری پانی کی بوند بوندجمع کرتے رہے اور 12مئی کو شہرکی ملکیت کے دعویدار کراچی کو خون میں نہلانے کی مہم میں مصروف نظرآئے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے وزیراعلی سندھ اوردیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ عوام کوپانی ان کی دہلیز پر اوربجلی کی بلاتعطل فراہمی بحال کی جائے اورعوام الناس کو ٹینکر مافیا سے نجات دلائی جائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی محمد یونس بارائی نے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل ہی ہمارا اوڑھنا اور بچھونا ہیں ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ امیرضلع نے ذمہ داران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لیے رابطہ عوام مہم کوموثربنایا جائے اور گھر گھررابطے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کے اندراج کویقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرلسٹوں کی شفافیت اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم ہدف بناکر ہرووٹر سے اس کے گھر پرملاقات کریں اور اس کے مسائل کوسنیں۔ محمد یونس بارائی نے کہا کہ اسی صورت میں ہمیں یہ بات معلوم ہوگی کہ کہاں پر ووٹ جعلی درج ہیں اور کہاں ووٹوں کا اندراج باقی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ