ا?ج ت??ل?س?م?ا س? ا?گا?? ?ا عالم? دن منا?ا جا ر?ا ??

89

پاکستان کی طرح دنیا بھر میں تھیلیسیمیا سے آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد اس مہلک بیماری سے متعلق آگاہی ، علامات اور علاج کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔

یہ دن عالمی ادارہ برائے صحت کی جانب سے ہر سال آٹھ مئی کو منایا جاتا ہے ۔جس کا مقصد اس بیماری سے لوگوں میں آگاہی پیدا کر نا ہے

تھیلیسیمیا ایک مہلک بیماری ہے جو کہ جسم میں خون کی کمی کو پیدا کرتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے جسم میں موجود ہیموگلوبین کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث جسم میں سرخ خلیوں کی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے ۔ اس بیماری کے دوران خون بننے کا عمل رک جاتا ہے ۔ اور مریض کو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق خون لگوانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ مریض کو خون لگوانے کا یہ عمل تاحیات جاری رہتا ہے ۔ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے ۔ جبکہ ہر سال پانچ ہزار بچے اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں ۔ تھیلیسیمیا سےبچاؤ کا واحد راستہ احتیاط ہے ۔ اگر شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کروالی جائے تو اس بیماری سے بچنے کا امکان بن سکتا ہے ۔

ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں تھیلسیمیاکے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوزکرچکی ہے اور ایک مریض پرانتقال خون سمیت دیگر دواؤں سے علاج کی مد میں سالانہ 2 لاکھ 85  ہزار روپے خرچ آتا ہے جس کا مطلب سالانہ پاکستانی قوم28 ارب سے زیادہ تھیلیسیمیاکے بچوں پرخرچ کرتی ہے

یاد رہے کہ تھیلیسیمیا سے بچاؤکا قانون 2013 میں سندھ اسمبلی نے منظورکرلیاتھا جس پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے، ماہرین طب نے تشویش ظاہر کی ہے کہ موثر پالیسی کے تحت اس مرض کی روک تھام نہ کی گئی تو2020 تک مریضوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہوجائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ