پرو?ز خ?? صوب? ?? حقوق ?? ل?? د?رنا د?ت? ??? تو ان ?? سات? ب???و? گا،سراج الحق

93

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پی کے 95 میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کے بعد سینیٹر زاہد خان اگر واقعی پشتون ہیں تو انہیں اپنے اعلان پر عمل کرناچاہیے اور اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔ الطاف حسین ہر صبح توبہ کرتاہے اور ہر شام اپنی توبہ کو توڑدیتاہے ۔ قومی اداروں کے بارے میں اگر ایم کیو ایم کا موقف وہ نہیں جو الطاف حسین بیان کرتے ہیں تو ایم کیوایم کو الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کرناچاہیے ۔ زرداری اور ذوالفقار مرزا کی لڑائی ان کے گھر کا مسئلہ ہے جس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ جیسے جیسے جوڈیشل کمیشن کی کاروائی آگے بڑھ رہی ہے حکمرانوں کے چہرے زرد پڑتے جارہے ہیں جس سے ثابت ہوتاہے کہ دال میں کچھ کالانہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ عوام کا انتخابی رویہ بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کو بااعتماد بنائے۔ الیکشن کمیشن کا عملہ اپنا ہونا چاہیے اور صرف ان لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے جنہوں نے اپنی جائیداد میں سے اپنی بہنوں کو حق دیا ہو اور جن سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں اپنے پارٹی انتخابات کرائے ہوں ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ عربیہ گوجرانوالہ میں تقسیم اسناد و دستار بندی کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس اور شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا ۔

سراج الحق نے کہاکہ صوبوں کو حقوق ملنے چاہئیں اگر خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صوبے کے حقوق کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دیتے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام وسائل کا رخ مرکز کی طرف کرنے کی بجائے صوبوں کو بھی انکا حصہ ادا کرے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں ایسا نظام چاہتی ہے جس میں کوئی احتساب سے بالاتر نہ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن لڑنا دولتمندوں کا کھیل بنا دیا گیاہے موجودہ طریقہ انتخاب میں عام آدمی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ آئینی طور پر اچھے، باکردار اور آئین کی دفعہ 62/63 پر پورا اترنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے اور ایسے امیدواروں کا خرچہ بھی حکومت کو پورا کرنا چاہیے ۔

سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کے پاس عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ ہے نہ ایجنڈا ۔ ان کا ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر انحصار ہے ۔ نوازشریف چوتھی بار حکمران بنے ہیں مگر ان کے پاس بھی وہی روایتی حیلے بہانے ہیں اور لوگ صرف ان کی آنیاں جانیاں دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے دو سو بلین ڈالر لوٹ کر کرپٹ حکمرانوں اور بیوروکریٹوں نے بیرونی بنکوں میں جمع کروالیے ہیں اگریہ دولت ملک میں واپس آجائے تو عوام کو تعلیم و صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جاسکتی ہیں ۔

دریں اثنا سینیٹر سر اج الحق نے شیخوپورہ میں اسلامی نظامت تعلیم کے زیر انتظام نجی سکولوں کے ٹیچرز و طلبہ کے لیے منعقدہ تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی کے 95 میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے بارے میں سیاسی جماعتوں میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ جماعت اسلامی کی خواتین ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے حلقہ میں باقاعدہ انتخابی مہم چلائی اور خواتین کے درجنوں اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ملک میں کسی جگہ بھی مرد ووٹر ز نے بھی تیس فیصد سے زائد ووٹ نہیں ڈالے ، حالانکہ ووٹ دینا قومی فریضہ ہے ۔ حکومت قانون سازی کرے اور ووٹ نہ دینے کے ٹرینڈ کو روکنے کے لیے باقاعدہ جرم قرار دیا جائے۔ پی کے 95 میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ یہاں کا علاقائی کلچر ہے ۔انہوں نے کہاکہ حلقہ این اے 125دال میں کچھ تو کالا ہے اگر معاملات صاف ہوتے تو الیکشن ٹریبونل دوبارہ الیکشن کا حکم نہ دیتا۔ حکومت جس چارپائی پر بیٹھی ہے، اس کا ایک پایہ ٹوٹ چکاہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومتی ادارے کہتے ہیںکہ ملک میں تخریبی سرگرمیوں میں ”را “اور” موساد “ کا ہاتھ ہے انہیں یہ بھی بتاناچاہیے کہ ان ہاتھوں کو توڑنا اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت عوام کو جان و مال کا تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔ حکمران خود خدا بننے کی کوشش کرتے ہیں انہیں ملک میں آئین وقانون اور میرٹ کی بالادستی کی کوئی پروا ہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سیاست اور جمہوریت کے نام پر تماشا لگاہواہے ۔انہوں کہاکہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر ملک میں یکساں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم رائج کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں سینکڑوں سکول ایسے ہیں جہاں بچوں کے لیے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ بھی موجود نہیں ہیں اور درجنوں سکول چھتوں سے محروم ہیں ۔ وی آئی پی کلچر ملک کے لیے کینسر سے زیادہ خطرناک ہے ہم ملک میں عوامی راج قائم کر کے وی آئی پی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی حکومت بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ تعلیم اور صحت پر خرچ کرے گی اور کسی غریب کا بچہ تعلیم اور علاج کی سہولت سے محروم نہیں رہے گا۔ انہو ں نے کہاکہ مغرب نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب اور ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق اور کلاشنکوف تھما دی ہے ۔ آدھی مسلم دنیا پر مغرب نے جنگ مسلط کر رکھی ہے دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ